ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں

عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری
زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری

بغض و نفرت کا کوئی سانپ نہ پالا دل میں
دیکھ چاہت سے بھری یار پٹاری ساری

میں تجھے اس کی وکالت سے کہاں روکتا ہوں
تو نے دیکھی ہی نہیں کار گزاری ساری

میں نے ہی دام میں آ کر ہے عیاں تم کو کیا
ورنہ سازش تو سمجھ لی تھی تمہاری ساری
دینے والے کی رضا ہے کہ وہ کب دیتا ہے
اپنی سانسیں بھی تو ہیں یار اُدھاری ساری

لوگ جو دہر کمانے میں لگے ہیں ارشد
ہم نے اک شخص پہ دنیا ہے یہ واری ساری

۔۔۔۔۔۔۔

ایک سازش کسی نے کی ساری
بات بنتے بگڑ گئی ساری

دوش کچھ آپ کا نہ تھا میرا
دونوں سمجھے نہ ان کہی ساری

کوئی کردار بولتا ہی نہیں
داستاں کس طرح گھڑی ساری

رفتہ رفتہ دباؤ میں آ کر
ڈور پل میں الجھ پڑی ساری
دشت مجھ کو سلام کرتا ہے
ریت میں نے بھی ہے چھنی ساری

اب کہ ڈھیروں وضاحتیں ہونگی
اس نے آدھی سنی کہی ساری

گرد اڑنا تو تھی یونہی ارشد
جب ہوا تیسرے نے دی ساری

Related posts

Leave a Comment